کلامِ حالیردیف الف

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

۱

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گاسینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

۲

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبطالفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

۳

اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوستزنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

۴

دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاںاب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا

۵

مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا

۶

راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگردشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

۷

کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کےپوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

۸

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

۹

ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پرکس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا

۱۰

مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدریعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا

۱۱

جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپقصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا

۲ / ۶۰