کلامِ حالیردیف الف

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا

۱

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا

۲

دل میں ہے باقی وہی حرص گناہپھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا

۳

آؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منااس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا

۴

دل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انسایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا

۵

جانتا دنیا کو ہے اک کھیل توکھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا

۶

عمر کی منزل تو جوں توں کٹ گئیمرحلے اب دیکھیے پیش آئیں کیا

۷

دل کو سب باتوں کی ہے ناصح خبرسمجھے سمجھائے کو بس سمجھائیں کیا

۸

مان لیجے شیخ جو دعویٰ کرےاک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا

۹

ہو چکے حالیؔ غزل خوانی کے دنراگنی بے وقت کی اب گائیں کیا

۳ / ۶۰