کلامِ حالیردیف ے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

۱

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے

۲

جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایتقاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے

۳

دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکندیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے

۴

ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباںیاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے

۵

پیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میںہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے

۶

در گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کےدر گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے

۷

اک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کوتخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے

۸

حالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونینشرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے

۹

جب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پرجھکئے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے

۲۷ / ۶۰