کلامِ حالیردیف ے

کر کے بیمار دی دوا تو نے

۱

کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نے

۲

رہرو تشنہ لب نہ گھبرانااب لیا چشمۂ بقا تو نے

۳

شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگاآ کے مسجد سے کیا لیا تو نے

۴

دور ہو اے دل مآل اندیشکھو دیا عمر کا مزا تو نے

۵

ایک بیگانہ وار کر کے نگاہکیا کیا چشم آشنا تو نے

۶

دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیریاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے

۷

خوش ہے امید خلد پر حالیؔکوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے

۲۶ / ۶۰