کلامِ حالیردیف ی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

۱

دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کی

۲

کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہتہم کو طاقت نہیں جدائی کی

۳

منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سےتم کو عادت ہے خود نمائی کی

۴

لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیںصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی

۵

ملتے غیروں سے ہو ملو لیکنہم سے باتیں کرو صفائی کی

۶

دل رہا پائے بند الفت دامتھی عبث آرزو رہائی کی

۷

دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سےرکھئے امید دل ربائی کی

۸

شہر و دریا سے باغ و صحرا سےبو نہیں آتی آشنائی کی

۹

نہ ملا کوئی غارت ایماںرہ گئی شرم پارسائی کی

۱۰

بخت ہم داستانی شیداتو نے آخر کو نارسائی کی

۱۱

صحبت گاہ گاہی رشکیتو نے بھی ہم سے بے وفائی کی

۱۲

موت کی طرح جس سے ڈرتے تھےساعت آ پہنچی اس جدائی کی

۱۳

زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔانتہا ہے یہ بے حیائی کی

۱۹ / ۶۰