کلامِ حالیردیف ی

بری اور بھلی سب گزر جائے گی

۱

بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گی

۲

ملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتاہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی

۳

رہیں گے نہ ملاح یہ دن سداکوئی دن میں گنگا اتر جائے گی

۴

ادھر ایک ہم اور زمانہ ادھریہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی

۵

بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخیہ عزت تو جائے گی پر جائے گی

۶

نہ پوری ہوئی ہیں امیدیں نہ ہوںیونہیں عمر ساری گزر جائے گی

۷

سنیں گے نہ حالیؔ کی کب تک صدایہی ایک دن کام کر جائے گی

۲۰ / ۶۰