کلامِ حالیردیف ن

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

۱

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں

۲

قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرحلگا دو آگ کوئی آشیاں میں

۳

کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیںدھرا کیا ہے اشارات نہاں میں

۴

کہیں انجام آ پہنچا وفا کاگھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں

۵

نیا ہے لیجئے جب نام اس کابہت وسعت ہے میری داستاں میں

۶

دل پر درد سے کچھ کام لوں گااگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں

۷

بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کرابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

۱۷ / ۶۰