کلامِ حالیردیف ن
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
۱
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں
۲
کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نےجب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں
۳
چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھغیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں
۴
ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمامللہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں
۵
مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیادل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں
۶
اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتاورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں
۷
بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔسخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں
۱۶ / ۶۰