کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

مٹی کا دیا

۱

جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیاایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا

۲

تاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیںراہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا

۳

یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سےروشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا

۴

گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیےہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہوا

۵

سرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیںروشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

۶

ہم نے ان عالی بناؤں سے کیا اکثر سوالآشکارا جن سے ان کے بانیوں کا ہے جلال

۷

شان و شوکت کی تمہاری دھوم ہے آفاق میںدور سے آ آ کے تم کو دیکھتے ہیں با کمال

۸

قوم کو اس شان و شوکت سے تمہاری کیا ملادو جواب اس کا اگر رکھتی ہو یارائے مقال

۹

سرنگوں ہو کر وہ سب بولیں زبان حال سےہو سکا ہم سے نہ کچھ الانفعال الانفعال

۱۰

بانیوں نے تھا بنایا اس لیے گویا ہمیںہم کو جب دیکھیں خلف اسلاف کو رویا کریں

۱۱

شوق سے اس نے بنایا مقبرہ اک شانداراور چھوڑا اس نے اک ایوان عالی یادگار

۱۲

ایک نے دنیا کے پودے باغ میں اپنے لگائےایک نے چھوڑے دفینے سیم و زر کے بے شمار

۱۳

اک محب قوم نے اپنے مبارک ہاتھ سےقوم کی تعلیم کی بنیاد ڈالی استوار

۱۴

ہوگی عالم میں کہو سرسبز یہ پچھلی مرادیا وہ اگلوں کی امیدیں لائیں گی کچھ برگ و بار

۱۵

چشمۂ سر جیوں ہے جو بہتا رہے گا یاں وہیسب اتر جائیں گی چڑھ چڑھ ندیاں برسات کی

۴۷ / ۶۰