کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

مرثیۂ دہلی مرحوم

۱

تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانا ہرگز

۲

داستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبلہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگز

۳

ڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز

۴

صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز

۵

لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز

۶

چپہ چپہ پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز

۷

مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز

۸

وہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانا ہرگز

۹

جس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیںنظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگز

۱۰

ہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز

۱۱

آخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگز

۱۲

بخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگز

۱۳

کبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز

۱۴

غالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا نہ شکلوں کو زمانا ہرگز

۱۵

مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز

۱۶

داغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگز

۱۷

رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگز

۱۸

بزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز

۴۸ / ۶۰