کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر
مناجات بیوہ
(۱)
اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظر
اے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانا
اے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سے
اے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھے
سب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالے
اے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارے
ناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھی
ناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والے
جب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئی
جوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میں
ہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیرا
راہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑی
تو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کا
تو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالا
لاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کا
بید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کا
سوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے
(۲)
اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارث
بے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہی
بس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیں
ساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروا
دل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائی
بیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہی
دکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیوا
تو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دے
تو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالے
تو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائے
چمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارے
پیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے
(۳)
اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والے
اے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہر
عقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیا
ایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہے
اس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایسا
ہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہے
یہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہے
پھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیں
کھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتی
ایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئے
ایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالا
ایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر
مینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستا
ایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتے
حال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہے
رنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کا
یہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکن
ایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالا
گھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبت
تپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بن
دق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کو
روز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئی
تو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتا
گو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاں
خواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہے
کھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کی
گھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہے
ڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتی
ایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹا
ایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہے
رنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہے
غم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیں
کال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کی
سہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کنارا
پر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحت
شاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزل
ان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھر
ان بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہ
اب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالی
آئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریں
پڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولے
گئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیں
پر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کی
آس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟
ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھ
رونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہے
حکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارا
زور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کر
تنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کر
قسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟
آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گی
تو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتا
مارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونے
ٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگے
تجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیں
تو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازے
تجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میں
ماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے
(۴)
اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والے
میں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاری
موت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرن
اپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاری
سہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوں
دل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنے
دکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتی
تجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیا
بیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینے
خوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیا
ایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائے
کیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواں
چین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کو
رو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تک
ہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کر
ایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتا
لیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانے
جاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھی
اب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتر
بات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعت
آبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونا
دن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانی
بہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میری
مل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سے
جب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہ
کوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاوا
آٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپا
تھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتے
آگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندر
دیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نے
دبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماری
قوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کی
تہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار منانا
وہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیں
وہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیں
کس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیں
چاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جب
رنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کے
گھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسی
دن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسے
رت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارے
کسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئی
آس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھ
رہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئی
پھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائی
ریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کے
چاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
۵۱ / ۶۰