کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

برکھا رت

۱

گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والی

۲

قدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاں

۳

وہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانی

۴

وہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برسات

۵

آئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعد

۶

وہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماں

۷

گرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار

۸

بھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریا

۹

سانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائے

۱۰

تھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالے

۱۱

چیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھ

۱۲

تھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سست

۱۳

ڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھا

۱۴

بھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میں

۱۵

گھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہ

۱۶

گرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کا

۱۷

طوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولا

۱۸

آرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتے

۱۹

تھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نام

۲۰

رستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کل

۲۱

گھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤں

۲۲

تھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک

۵۰ / ۶۰