کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیات

۱

جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسر

۲

جب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یاںآئی ہو جیسی بے خبر ویسی ہی جاؤ بے خبر

۳

دنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سبتم پر مبادا علم کی پڑ جائے پرچھائیں کہیں

۴

ایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرقتعلیم پا کر آدمی بننا تمہیں زیبا نہیں

۵

علم و ہنر سے رفتہ رفتہ ہو گئیں مایوس تمسمجھا لیا دل کو کہ ہم خود علم کے قابل نہ تھیں

۶

آخر تمہاری چپ دلوں میں اہل دل کے چبھ گئیسچ ہے کہ چپ کی داد آخر بے ملے رہتی نہیں

۵۵ / ۶۰