کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہ

۱

فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہ

۲

نہ ان کو نباتات سے آگہی ہےنہ اصلاً خبر معدنیات کی ہے

۳

نہ تشریح کی لے کسی پر کھلی ہےنہ علم طبیعی نہ کیمسٹری ہے

۴

نہ پانی کا علم اور نہ علم ہوا ہےمریضوں کا ان کے نگہباں خدا ہے

۵

نہ قانون میں ان کے کوئی خطا ہےنہ مخزن میں انگشت رکھنے کی جا ہے

۶

سیدی میں لکھا ہے جو کچھ بجا ہےنفیسی کے ہر قول پر جاں فدا ہے

۷

سلف لکھ گئے جو قیاس اور گماں سےصحیفے ہیں اترے ہوئے آسماں سے

۸

وہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفترعفونت میں سنڈاس سے جو ہے بد تر

۹

زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابرملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر

۱۰

ہوا علم و دیں جس سے تاراج ساراوہ علموں میں علم ادب ہے ہمارا

۱۱

برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہےعبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے

۱۲

تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہےمقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے

۱۳

گنہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارےجہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے

۵۶ / ۶۰