کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

نشاط امید

۱

اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارساز

۲

میری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہ

۳

عیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیق

۴

کاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کی

۵

دل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھ

۶

تو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھ

۷

جی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنج

۸

تجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آس

۹

خاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تو

۱۰

نوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تو

۱۱

رام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں تو

۱۲

تو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دل

۱۳

ہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدام

۱۴

تو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاس

۱۵

ہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سب

۱۶

ہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے بات

۱۷

ساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجم

۱۸

گھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگ

۱۹

عزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پست

۲۰

تو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاں

۲۱

ذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملا

۲۲

دونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑ

۲۳

نیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاس

۲۴

دین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہو

۲۵

خشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھل

۲۶

دل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہور

۲۷

نام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا ترا

۲۸

کوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیل

۲۹

روپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگ

۳۰

چھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امید

۳۱

تیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تخت

۳۲

خاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بند

۳۳

تجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاں

۳۴

کوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاش

۳۵

اک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگی

۳۶

ایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائے

۳۷

ایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیا

۳۸

قوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیک

۳۹

ایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شق

۴۰

جو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزو

۴۱

تجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغ

۴۲

سب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مراد

۴۳

وعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغ

۴۴

وعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند تو

۴۵

بھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کل

۴۶

تلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرے

۴۷

آنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاس

۴۸

یاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤ

۴۹

آنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آس

۵۰

جن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کی

۵۱

چٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤ

۵۲

پاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوق

۵۳

فیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خواب

۵۴

تیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیب

۵۵

تجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیا

۵۶

دل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کو

۵۷

کھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگی

۵۸

دین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شام

۵۹

دھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گدا

۶۰

پیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤ

۶۱

کہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسر

۶۲

ہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈال

۶۳

تول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھی

۶۴

پھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تخت

۶۵

آج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جو

۶۶

تیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آس

۶۷

پھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگر

۶۸

کھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیب

۶۹

ہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوم

۷۰

لگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنے

۷۱

ہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگ

۷۲

جی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیے

۷۳

بیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرح

۷۴

ہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کا

۷۵

ٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھی

۷۶

جاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتا ہے ان مشکلوں کو تو ہی حل

۷۷

کان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیں

۷۸

ساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگی

۷۹

تجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید

۵۸ / ۶۰