کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر
میڈیکل ٹیسٹ
دو ملازم ایک کالا اور گورا دوسرادوسرا پیدل مگر پہلا سوار راہ وار
تھے سول سرجن کی کوٹھی کی طرف دونوں رواںکیونکہ بیماری کی رخصت کے تھے دونوں خواست گار
راہ میں دونوں کے باہم ہو گئی کچھ ہشت مشتکوکھ میں کالے کی اک مکا دیا گورے نے مار
صدمہ پہنچا جس سے تلی کو بہت مسکین کیآ کے گھوڑے سے لیا سائیس نے اس کو اتار
ٹھوک کر کالے کو گورے نے تو اپنی راہ لیچوٹ کے صدمے سے غش کالے کو آیا چند بار
آخرش کوٹھی پہ پہنچے جا کے دونوں پیش و پسضارب اپنے پاؤں اور مضروب ڈولی میں سوار
ڈاکٹر نے آ کے دونوں کی سنی جب سرگزشتتہ کو جا پہنچا سخن کی سن کے قصہ ایک بار
دی سند گورے کو لکھ کر جس میں تھی تصدیق مرضاور یہ لکھا تھا مسائل ہیں بہت زار و نزار
یعنی اک کالا نہ جس گورے کے مکے سے مرےکر نہیں سکتا حکومت ہند پر وہ زینہار
اور کہا کالے سے تم کو مل نہیں سکتی سندکیونکہ تم معلوم ہوتے ہو بظاہر جان دار
ایک کالا پٹ کے جو گورے سے فوراً مر نہ جائےآئے بابا اس کی بیماری کا کیونکر اعتبار
۵۹ / ۶۰