کلامِ حسرتردیف الف

بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا

۱

بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگااب تو اظہارِ محبت برملا ہونے لگا

۲

کیا کہا میں نے جو ناحق تم خفا ہونے لگےکچھ سنا بھی یا کہ یونہی فیصلہ ہونے لگا

۳

اب غریبوں پر بھی ساقی کی نظر پڑنے لگیبادۂ پس خوردہ ہم کو بھی عطا ہونے لگا

۴

کچھ نہ پوچھو حال کیا تھا خاطرِ بیتاب کااُن سے جب مجبور ہو کر میں جدا ہونے لگا

۵

یاد اُس بے وفا کی ہر گھڑی رہنے لگیپھر اُسی کا تذکرہ صبح و مسا ہونے لگا

۶

کیا ہوا حسرت وہ تیرا ادّعائے ضبطِ غمدو ہی دن میں رنجِ فرقت کا گلا ہونے لگا

۱ / ۷۹