Contents فہرست
ردیف الف
Ghazals — Radeef Alif
- بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا۱
- بت بے درد کا غم مونس ہجراں نکلا۲
- تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا۳
- حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا۴
- دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا۵
- دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا۶
- دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا۷
- نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا۸
- پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا۹
- کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا۱۰
- ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا۱۱
- یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا۱۲
- یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا۱۳
ردیف ب
Ghazals — Radeef Be
ردیف ج
Ghazals — Radeef Jeem
ردیف ز
Ghazals — Radeef Ze
ردیف س
Ghazals — Radeef Seen
ردیف ک
Ghazals — Radeef Kaaf
ردیف گ
Ghazals — Radeef Gaaf
ردیف ل
Ghazals — Radeef Laam
ردیف م
Ghazals — Radeef Meem
ردیف ن
Ghazals — Radeef Noon
- اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں۲۵
- بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں۲۶
- بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں۲۷
- جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں۲۸
- خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں۲۹
- سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں۳۰
- لطف کی ان سے التجا نہ کریں۳۱
- پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں۳۲
- کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں۳۳
- نہ سہی گر انہیں خیال نہیں۳۴
- ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں۳۵
- وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں۳۶
ردیف و
Ghazals — Radeef Wao
ردیف ہ
Ghazals — Radeef He
ردیف ی
Ghazals — Radeef Choti Ye
- آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی۴۱
- آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی۴۲
- ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی۴۳
- برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی۴۴
- بیکلی سے مجھے راحت ہوگی۴۵
- تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی۴۶
- خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی۴۷
- درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی۴۸
- دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی۴۹
- چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی۵۰
- نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی۵۱
- ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی۵۲
ردیف ے
Ghazals — Radeef Bari Ye
- آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے۵۳
- اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے۵۴
- اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے۵۵
- تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے۵۶
- ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے۵۷
- توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے۵۸
- جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے۵۹
- رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے۶۰
- روش حسن مراعات چلی جاتی ہے۶۱
- ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے۶۲
- عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے۶۳
- قسمت شوق آزما نہ سکے۶۴
- مستی کے پھر آ گئے زمانے۶۵
- مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے۶۶
- نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے۶۷
- چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے۶۸
- کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سے۶۹
- کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے۷۰
- کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے۷۱
- نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے۷۲
- ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے۷۳
- ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے۷۴
- وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے۷۵
- یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے۷۶
- پھر یاد جو آئی ہے مدینے کی بلانے۷۷
مثنویات، مراثی و دیگر
Masnavis, marsiyas and other forms