کلامِ انشاردیف الف
اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھا
۱
اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھالو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا
۲
مشغول کیا چاہئے اس دل کو کسی طورلے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا
۳
گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائیہر طور غرض آپ سے ملنا ہی کم اچھا
۴
اغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیںمجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا
۵
ہم معتکف خلوت بت خانہ ہیں اے شیخجاتا ہے تو جا تو پئے طوف حرم اچھا
۶
جو شخص مقیم رہ دل دار ہیں زاہدفردوس لگے ان کو نہ باغ ارم اچھا
۷
کہہ کر گئے آتا ہوں کوئی دم کو ابھی میںپھر دے چلے کل کی سی طرح مجھ کو دم اچھا
۸
اس ہستئ موہوم سے میں تنگ ہوں انشاؔواللہ کہ اس سے بہ مراتب عدم اچھا
۱ / ۸۰