کلامِ انشاردیف الف
زلف کو تھا خیال بوسے کا
۱
زلف کو تھا خیال بوسے کاخط نے لکھا سوال بوسے کا
۲
دوہرے پتوں کے زیر سایہ ہواسب قلم بند حال بوسے کا
۳
چشمک خال رخ نے صاف کہاہے تبسم مآل بوسے کا
۴
سبزۂ نو دمیدہ نے ماراگرد رخسار جال بوسے کا
۵
رہ گیا تیرے مکھڑے پر باقیاب مکاں خال خال بوسے کا
۶
ہو غضب اپنے بال نوچ لیےہے یہ سارا وبال بوسے کا
۷
تیرے غصے سے اب کوئی انشاؔچھوڑتا ہے خیال بوسے کا
۲ / ۸۰