کلامِ انشاردیف الف

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا

۱

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹاکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹا

۲

عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تم سےکبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب الٹا

۳

چلے تھے حرم کو رہ میں ہوئے اک صنم کے عاشقنہ ہوا ثواب حاصل یہ ملا عذاب الٹا

۴

یہ شب گزشتہ دیکھا وہ خفا سے کچھ ہیں گویاکہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب الٹا

۵

ابھی جھڑ لگا دے بارش کوئی مست بڑھ کے نعرہجو زمین پہ پھینک مارے قدح شراب الٹا

۶

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباںوہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

۷

یوں ہی وعدہ پر جو چھوٹے تو نہیں ملاتے تیوراے لو اور بھی تماشا یہ سنو جواب الٹا

۸

کھڑے چپ ہو دیکھتے کیا مرے دل اجڑ گئے کووہ گنہ تو کہہ دو جس سے یہ ہے وہ خراب الٹا

۹

غزل اور قافیوں میں نہ کہی سو کیونکہ انشاؔکہ ہوا نے خود بخود آ ورق کتاب الٹا

۴ / ۸۰