کلامِ انشاردیف الف
جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا
۱
جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگاتو سلفے کا اور اس کو کوڑا لگا
۲
مرے ہی جو بازو میں اک نیل ساسو تیرے ہے پاؤں کا توڑا لگا
۳
اجی چشم بد دور نام خداتمہیں کیا بھلا سرخ جوڑا لگا
۴
بھلا آپ شرمائے کس واسطےکبوتر کا باہم جو جوڑا لگا
۵
یہ دکھتی نگاہوں سے گھورا مجھےکہ دکھنے مرے دل کا پھوڑا لگا
۶
لگی کہنے انشاؔ کو شب وہ پریمجھے بھوت ہو یہ نگوڑا لگا
۶ / ۸۰