کلامِ انشاردیف الف

فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کا

۱

فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کاغرض کیا کہ محتاج ہو بادشہ کا

۲

خدنگ آہ کا اے فلک بے طرح ہےبھروسا تو تاروں کی مت کر زرہ کا

۳

خرابات کی جب سے لذت پڑی ہےچھٹا بیٹھنا مسجد و خانقہ کا

۴

طواف حرم تجھ کو زاہد مبارکمرا اور تیرا نہیں ساتھ رہ کا

۵

صنم خانہ جاتا ہوں تو مجھ کو ناحقنہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا

۶

ترے منہ سے کچھ بو جو آتی ہے مے کیدماغ دل اس وقت جاتا ہے مہکا

۷

رقیبوں کے دل چاک مثل کتاں ہوںگزار اس طرف ہو اگر اپنے رہ کا

۸

تری آشنائی میں کیا ہم نے پایادیا نقد دل اور اپنی گرہ کا

۹

چمک کر تو اے برق مت مار چشمکتو مستوں کی آتش کو مت اور دہکا

۱۰

تبھی لطف ہے ساقیا مے کشی کاکہ تو بھی بہک اور مجھ کو بھی بہکا

۱۱

کبھی تجھ سے انشاؔ نے بوسہ نہ مانگاگناہ گار ہے وہ فقط اک نگہ کا

۷ / ۸۰