نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے

نہیں ہوتے عام کے روبرو ہمیں قبلہ خاص ہے آرزوکہ خدا کرے پڑے گفتگو کسی پیر و مرشددیر سے

About this couplet

This is couplet 3 of 8 in “⁨نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Insha Allah Khan Insha's Urdu book Kalam-e-Insha (⁨کلامِ انشا⁩).

Read it in the poem

۳ / ۸