کلامِ انشاردیف ے

نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے

۱

نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سےبس اب آگے حضرت عشق جی چلے جائیے گھر ہی کو خیر سے

۲

وہ جو گٹکا پارے کا منہ میں لے پڑے اڑتے پھرتے ہیں جوگی جیسو تو بھرت پور سے اداس ہو چلے آئے قلعۂ دیر سے

۳

نہیں ہوتے عام کے روبرو ہمیں قبلہ خاص ہے آرزوکہ خدا کرے پڑے گفتگو کسی پیر و مرشددیر سے

۴

کہو کس وسیلے سے شیخ کے شک و شبہ ہووے کمال میںکہ جو نعمت آپ کو پہنچی ہے سو میاں غلام زبیر سے

۵

جو خفا ہوئے تو ہوئے اجی جو لڑی بھڑی تو لڑے سہیگلہ ہے سو یار عزیز سے نہ کہ شکوہ صورت غیر سے

۶

مجھے اک حیات دوبارہ دے اسی قدرت اپنی سے اے خداکہ خطاب فقرۂ کم لبثت کیا تھا جن نے عزیر سے

۷

وہ جو ہے علی ولی وصی ہے محمد عربی اخیسو تو عبد خاص کریم ہے اسے دشمنی ہے نصیر سے

۸

یہی چال اپنی ہے انشاؔ اب کبھی تو درختوں سے خلطے ہیںکبھی ہے صبا سے خطاب کچھ کبھی وحش سے کبھی طیر سے

۷۴ / ۸۰