نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے
یہی چال اپنی ہے انشاؔ اب کبھی تو درختوں سے خلطے ہیںکبھی ہے صبا سے خطاب کچھ کبھی وحش سے کبھی طیر سے
About this couplet
This is couplet 8 of 8 in “نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Insha Allah Khan Insha's Urdu book Kalam-e-Insha (کلامِ انشا).
Read it in the poem۸ / ۸