کلامِ انشاردیف ن

تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں

۱

تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیںمعاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیں

۲

غلط ہے آہ کہ ہے دل کو دل سے راہ نہیںکہ تیری چاہ مجھے تجھ کو میری چاہ نہیں

۳

غلام ہم تو ہیں ایسے مزاج والوں کےکسی کے ساتھ کسی ڈھب کی جن کو راہ نہیں

۴

ہماری چوری جو ثابت ہوئی دلیل بھی کچھمقر نہیں کوئی شاہد نہیں گواہ نہیں

۵

تواضع آپ کی ہم کیا کریں بھلا صاحببقول شخصے اس اپنے جگر میں آہ نہیں

۶

رکھائیاں جو یہی ہیں تو اس طرح اپنانہیں نہیں نہیں ہرگز نہیں نباہ نہیں

۷

حرم سے دیر میں یاں آب و دانہ لے آیابہ رب کعبہ مرا اس میں کچھ گناہ نہیں

۸

نہ کچھ جہت نہ سبب قاہ قاہ ہنستے ہوتمہاری خوش مجھے آتی یہ قاہ قاہ نہیں

۹

کہوں بقید قسم لاالہ الا اللہکہ تاب ہجر بس اب مجھ میں اے الٰہ نہیں

۳۳ / ۸۰