کلامِ انشاردیف ن
توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردن
توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردنرکھ دوں گا وہاں کاٹ کے اک حور کی گردن
خوددار کی بن شکل الف ہائے انا الحقنت چاہتی ہیں اک نئی منصور کی گردن
کیوں ساقیٔ خورشید جبیں کیا ہے نشہ ہوںسب یوں ہی چڑھا جاؤں مے نور کی گردن
اچھلی ہوئی ورزش سے تری ڈنڈ پہ مچھلیہے نام خدا جیسی سقنقور کی گردن
تھا شخص جو گردن زدنی اس سے یہ بولےاب دیجئے ہے دینی جو منظور کی گردن
آئینہ کی گر سیر کرے شیخ یہ دیکھےسر خرس کا منہ خوک کا لنگور کی گردن
یوں پنجۂ مژگاں میں پڑا ہے یہ مرا دلجوں چنگل شہباز میں عصفور کی گردن
تب عالم مستی کا مزا ہے کہ پڑی ہوگردن پہ مری اس بت مخمور کی گردن
بیٹھا ہو جہاں پاس سلیمان کے آصفواں کیوں نہ جھکی قیصر و فغفور کی گردن
بھینچی ہے بغل اپنی میں اس زور سے جو عشقتو توڑنے پر ہے کسی مجبور کی گردن
اے مست یہ کیا قہر ہے خشت سر خم سےکیوں تو نے صراحی کی بھلا چور کی گردن
محفل میں تری شمع بنی موم کی مریمپگھلی پڑی ہے اس کی وہ کافور کی گردن
اے دیو سفید سحری کاش تو توڑےاک مکے سے خور کے شب دیجور کی گردن
جب کشتۂ الفت کو اٹھایا تو الم سےبس ہل گئی اس قاتل مغرور کی گردن
بے ساختہ بولا کہ ارے ہاتھ تو ٹک دوڈھلکے نہ مرے عاشق مغفور کی گردن
حاسد تو ہے کیا چیز کرے قصد جو انشاؔتو توڑ دے جھٹ بلغم باعور کی گردن
۳۲ / ۸۰