کلامِ انشاردیف ن
جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوں
۱
جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوںاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوں
۲
اب آپ کی دموں میں ہم آ چکے ہٹو بھیخوش آوے پیارے کس کو جب دل ہی کٹ رہے ہوں
۳
کیوں کر زباں سے ان کی اپنا بچاؤ ہووےذات و صفات سب کے جب وہ اکٹ رہے ہوں
۴
آتے تھے ساتھ میرے دیکھو تو کیا ہوئے وہایسا نہ ہو کہ پیچھے رشتہ میں کٹ رہے ہوں
۵
تب سیر دیکھے کوئی باہم لڑائیوں کےکھینچے ہوں وہ تو تیغا اور ہم بھی ڈٹ رہے ہوں
۶
کیا کر سکیں دوانے حال دل پریشاںزلفوں کے بال ان کے جب آپ لٹ رہے ہوں
۷
آپس میں روٹھنے کا انداز ہو تو یہ ہووہ ہم سے پھٹ رہے ہوں ہم ان سے پھٹ رہے ہوں
۸
جی چاہتا ہے اے دل اک ایسی رات آوےمطلع ہو صاف شہرا بادل بھی پھٹ رہے ہوں
۹
سوتے ہوں چاندنی میں وہ منہ لپیٹے اور ہمشبنم کا وہ دوپٹہ پٹھے الٹ رہے ہوں
۱۰
پنجم غزل اب انشاؔ انداز کی سنا دیآغوش میں معانی جس کے لپٹ رہے ہوں
۳۵ / ۸۰