کلامِ انشاردیف ن

جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوں

۱

جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوںمیں تو سخن میں عشق کے بولوں نہ ہاں نہ ہوں

۲

خلوت میں تیری بار نہ جلوت میں مجھ کو ہائےباتیں جو دل میں بھر رہی ہیں سو کہاں کہوں

۳

گاہے جو اس کی یاد سے غافل ہو ایک دممجھ کو دہن میں اپنے لگی ہے زباں زبوں

۴

شط عمیق عشق کو یہ چاہتا ہوں میںابر مژہ سے رو کے اسے بے کراں کروں

۵

طوفان نوح آنکھ نہ ہم سے ملا سکےآتی نظر ہیں چشم سے ہر پل عیاں عیوں

۶

ناصح خیال خام سے کیا اس سے فائدہکب میرے دل سے ہو ہوس دلبراں بروں

۷

یہ اختلاط کیجئے موقوف ناصحامعقول یعنی دل اسے اے قدرداں نہ دوں

۸

انشاؔ کروں جو پیرویٔ شیخ و برہمنمیں بھی انہوں کی طرح سے جوں گمرہاں رہوں

۹

خلوت سرائے دل میں ہے ہو کر کے معتکفبیٹھا ہوں کیا غرض کہیں اے جاہلاں ہلوں

۳۶ / ۸۰