کلامِ انشاردیف ت

تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنت

۱

تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنتجس سے کہ دل کی آگ اٹھے جاگ اے بسنت

۲

کیفیت بہار کے تو اس کو دے خبرموج نسیم کی طرح اڑ لاگ اے بسنت

۳

ہر شاخ زرد و سرخ و سیہ ہجر یار میںڈستے ہیں دل کو آن کے جوں ناگ اے بسنت

۴

منہ دیکھو عاشقوں کے مقابل ہوں رنگ میںباندھی ہے مجھ سے کس لیے تو لاگ اے بسنت

۵

تجھ میں کہاں یہ بوقلمونی کہاں یہ سنگدشت و جبل کو خیر سے اب بھاگ اے بسنت

۶

جوں تار چنگ چھیڑ نہ انشاؔ کو بات میںتیرا سنا ہوا ہے یہ گھٹراگ اے بسنت

۱۳ / ۸۰