کلامِ انشاردیف الف

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

۱

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہماراتس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا

۲

تم نے تو نہیں خیر یہ فرمائیے بارےپھر کن نے لیا راحت و آرام ہمارا

۳

میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس تو بولےکیوں کس لیے کس واسطے کیا کام ہمارا

۴

رکھتے ہیں کہیں پانو تو پڑتے ہیں کہیں اورساقی تو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا

۵

ٹک دیکھ ادھر غور کر انصاف یہ ہے واہہو جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا

۶

اے باد صبا محفل احباب میں کہیودیکھا ہے جو کچھ حال تہہ دام ہمارا

۷

گر وقت سحر جائیے ہوتا ہے یہ ارشادہے وقت ملاقات سر شام ہمارا

۸

پھر شام کو آئے تو کہا صبح کو یوں ہیرہتا ہے سدا آپ پر الزام ہمارا

۹

سرگشتگی مرحلۂ شوق میں اے عشقپڑتا ہے نئی وضع سے ہر گام ہمارا

۱۰

اے برہمن دیر محبت میں صنم کیاللہ ہی باقی رکھے اسلام ہمارا

۱۱

ہم کوچۂ دل دار کے ہوتے ہیں تصدقاے شیخ حرم ہے یہی احرام ہمارا

۱۲

بیتابی دل کے سبب اس شوخ تک انشاؔپہنچے ہے بلا واسطہ پیغام ہمارا

۱۲ / ۸۰