کلامِ انشامثنویات، مراثی و دیگر

تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے

۱

تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرےجب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے

۲

یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تکجیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے

۳

حے کی پر شکل حواصل کی سی آتی ہے نظرنقطہ اس پر جو لگا خے ہوا یہ واہ بے خے

۴

دال بھی چھوٹی بہن اس کی ہے جوں آتوجےایک پرکالہ سا بیٹا بھی ہے گھر میں ان کے

۵

رے بھی خالی ہے اور زے پہ ہے وہ نکتہ ایککہ مشابہ ہے جو تل سے مری رخسارے کے

۶

سین خالی ہے بڑی شین پہ ہیں نقطہ تینصاد اور ضاد میں بس فرق ہے اک نقطے سے

۷

طوے بن طرہ ہے اور ظوے پر اک نقطہ پھرعین بے عیب ہے اور کانے میاں غین ہوے

۸

فے پہ اک نقطہ ہے اور قاف پہ ہیں نقطہ دوکاف بھی خالی ہے اور لام بھی خالی، یہ لے

۹

میم بھی یوں ہی ہے اور نون کے اندر نقطہمفلسا بیگ ہے یہ واؤ بھی اور چھوٹی ہے

۱۰

کیا خلیفہ جی یہ ہے ہے ہے نہیں سے نکلےآگے چھٹی دو اے لو لام الف ہمزہ یے

۱۱

گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہکس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے

۸۰ / ۸۰