کلامِ انشامثنویات، مراثی و دیگر

زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے

۱

زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریےشیشے میں اس پری کو نہ جب تک اتارئیے

۲

اوضاع ڈھونڈ ڈھاڈ کے یاروں سے سیکھئےہوتے نہیں جہان میں ہم سے نیارئیے

۳

اے اشک گرم کر مرے دل کا علاج کچھمشہور ہے کہ چوٹ کو پانی سے دہارئے

۴

جو اہل‌ فقر و شاہ کمہارے کے ہیں مریدپالے ہیں ان سبھوں نے کبوتر کمہارئے

۵

گلنے کی دال یاں نہیں بس خشکہ کھائیےاے شیخ صاحب آپ نہ شیخی بگھاریے

۶

کل جن کو کھیرے ککڑی کیا کوس کاٹ کرآج اس پری نے ان کو دیئے نرم آریے

۷

ہو آب میں کدر تو ٹھہر جائیے ٹک ایکدل میں کدورت آوے تو کیوں کر نتھاریے

۸

ہے کون سی یہ وضع بھلا سوچیے تو آپباتیں ادھر کو کیجے ادھر آنکھ ماریے

۹

پوچھے حقیقت ایک نے جو امن راہ کیتو بولے سر جھکا کے بچا وہ مدارئیے

۱۰

خطرہ نہ آپ کیجے بس اب خیر شوق سےسونا اچھالتے ہوئے گھر کو سدھارئے

۱۱

ہے جو بلند حوصلہ ان کی یہ چال ہےکیا پھر انہیں بگاڑئے جن کو سنوارئیے

۱۲

پنڈت جی ہم میں ان میں بھلا کیسے ہونے کےپوتھی کو اپنے کھولیے کچھ تو بچارئے

۱۳

انشاؔ کوئی جواب بھی دینا نہیں ہمیںبانگ جرس کی طرح کہاں تک پکاریے

۷۹ / ۸۰