کلامِ جگرردیف الف

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

۱

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھاآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا

۲

تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھاکیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا

۳

وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھاآتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا

۴

ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھابوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا

۵

کوئی تو دردمند دل ناصبور تھامانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا

۶

لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزوملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا

۷

ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوششامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا

۸

ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیاناتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا

۹

پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامرادیہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا

۱۰

جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیااس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا

۱۱

اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکاسب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا

۱۲

دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہاس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا

۱ / ۸۹