Contents فہرست
ردیف الف
Ghazals — Radeef Alif
- آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا۱
- اس کی نظروں میں انتخاب ہوا۲
- تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا۳
- ستم کامیاب نے مارا۴
- جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا۵
- حسن کے احترام نے مارا۶
- دل کو سکون روح کو آرام آ گیا۷
- آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا۸
- شکست توبہ۹
- اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا۱۰
- عشق کو بے نقاب ہونا تھا۱۱
- یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا۱۲
- نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا۱۳
- لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا۱۴
- کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا۱۵
- کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا۱۶
- ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا۱۷
- ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا۱۸
ردیف ت
Ghazals — Radeef Te
ردیف د
Ghazals — Radeef Daal
ردیف ر
Ghazals — Radeef Re
ردیف گ
Ghazals — Radeef Gaaf
ردیف م
Ghazals — Radeef Meem
ردیف ن
Ghazals — Radeef Noon
- اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں۲۸
- بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں۲۹
- دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں۳۰
- سبھی انداز حسن پیارے ہیں۳۱
- شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں۳۲
- عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں۳۳
- تصویر و تصور۳۴
- جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں۳۵
- ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں۳۶
- یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں۳۷
- نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں۳۸
- نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں۳۹
- محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں۴۰
- قحط بنگال۴۱
ردیف ہ
Ghazals — Radeef He
ردیف ی
Ghazals — Radeef Choti Ye
ردیف ے
Ghazals — Radeef Bari Ye
- آدمی آدمی سے ملتا ہے۵۲
- آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے۵۳
- اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے۵۴
- اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے۵۵
- برابر سے بچ کر گزر جانے والے۵۶
- طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے۵۷
- اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے۵۸
- شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے۵۹
- شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے۶۰
- سب پہ تو مہربان ہے پیارے۶۱
- راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے۶۲
- خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے۶۳
- جہل خرد نے دن یہ دکھائے۶۴
- جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے۶۵
- احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے۶۶
- دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے۶۷
- اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے۶۸
- آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے۶۹
- یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے۷۰
- یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے۷۱
- یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے۷۲
- وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے۷۳
- نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے۷۴
- محبت صلح بھی پیکار بھی ہے۷۵
- محبت آپ اپنی ترجماں ہے۷۶
- کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے۷۷
- کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے۷۸
- کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے۷۹
- کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے۸۰
- عشق کی داستان ہے پیارے۸۱
- عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئے۸۲
- فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے۸۳
- نرگس مستانہ۸۴
مثنویات، مراثی و دیگر
Masnavis, marsiyas and other forms