اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
مجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سےکبھی آ کے منظر عام پر کبھی ہٹ کے منظر عام سے
About this couplet
This is couplet 2 of 13 in “اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Ali Sikandar Jigar Moradabadi's Urdu book Kalam-e-Jigar (کلامِ جگر).
Read it in the poem۲ / ۱۳