کلامِ جگرردیف ے
کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے
۱
کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے
۲
مے کدہ میں نہ خانقاہ میں ہےجو تجلی دل تباہ میں ہے
۳
ہائے وہ راز غم کہ جو اب تکتیرے دل میں مری نگاہ میں ہے
۴
عشق میں کیسی منزل مقصودوہ بھی اک گرد ہے جو راہ میں ہے
۵
میں جہاں ہوں ترے خیال میں ہوںتو جہاں ہے مری نگاہ میں ہے
۶
حسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔوہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے
۷۷ / ۸۹