کلامِ جگرمثنویات، مراثی و دیگر
کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
۱
کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا
۲
دست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھاکیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا
۳
دل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئیمانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا
۴
جوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کیسو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا
۸۹ / ۸۹