اس گل باغ امامت کے ہیں پھول

تھا غرض شاداب کیا یہ گلستاںپھول گل تھے رنگ رنگ اس میں عیاںآگئی یک بار اس پر یوں خزاںکل جو تھے غنچے ہوئے ہو کر ملول

About this couplet

This is couplet 16 of 19 in “⁨اس گل باغ امامت کے ہیں پھول⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۶ / ۱۹