اس گل باغ امامت کے ہیں پھول

اب نہیں ہے برگ و بار و بر کا نامخار غنچے ہو رہے ہیں گام گامسیر کر ٹک جور کے تیشوں کا کامکچھ نہ چھوڑا کیا فروع و کیا اصول

About this couplet

This is couplet 4 of 19 in “⁨اس گل باغ امامت کے ہیں پھول⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۹