اس گل باغ امامت کے ہیں پھول

الغرض میداں میں شہ مارا گیادار و دستہ قتل ہو سارا گیاعابدیں کا یاور و یارا گیاکرتے ہیں کیا کیا فضولی اب فضول

About this couplet

This is couplet 7 of 19 in “⁨اس گل باغ امامت کے ہیں پھول⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۹