کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

شعلۂ عشق

۱

محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نورنہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور

۲

محبت مسبب محبت سببمحبت سے آتے ہیں کار عجب

۳

محبت بن اس جا نہ آیا کوئیمحبت سے خالی نہ پایا کوئی

۴

محبت ہی اس کارخانے میں ہےمحبت سے سب کچھ زمانے میں ہے

۵

محبت سے کس کو ہوا ہے فراغمحبت نے کیا کیا دکھائے ہیں داغ

۶

محبت اگر کارپرداز ہودلوں کے تئیں سوز سے ساز ہو

۷

محبت ہے آب رخ کار دلمحبت ہے گرمی آزار دل

۸

محبت عجب خواب خوں ریز ہےمحبت بلاے دل آویز ہے

۹

محبت کی ہیں کارپردازیاںکہ عاشق سے ہوتی ہیں جانبازیاں

۱۰

محبت کی آتش سے اخگر ہے دلمحبت نہ ہووے تو پتھر ہے دل

۱۱

محبت کو ہے اس گلستاں میں راہکلی کے دل تنگ میں بھی ہے چاہ

۱۲

محبت ہی سے دل کو رو بیٹھیےمحبت میں جی مفت کھو بیٹھیے

۱۳

محبت لگاتی ہے پانی میں آگمحبت سے ہے تیغ و گردن میں لاگ

۱۴

محبت سے ہے انتظام جہاںمحبت سے گردش میں ہے آسماں

۱۵

محبت سے روتے گئے یار خوںمحبت سے ہو ہو گیا ہے جنوں

۱۶

محبت سے آتا ہے جو کچھ کہومحبت سے ہو جو وہ ہرگز نہ ہو

۱۷

محبت سے پروانہ آتش بجاںمحبت سے بلبل ہے گرم فغاں

۱۸

اسی آگ سے شمع کو ہے گدازاسی کے لیے گل ہے سرگرم ناز

۱۹

محبت ہی ہے تحت سے تا بہ فوقزمیں آسماں سب ہیں لبریز شوق

۲۰

محبت سے یاروں کے ہیں رنگ زرددلوں میں محبت سے اٹھتے ہیں درد

۲۱

گیا قیس ناشاد اس عشق میںکھپی جان فرہاد اس عشق میں

۲۲

ہوئی اس سے شیریں کی حالت تباہکیا اس سے لیلیٰ نے خیمہ سیاہ

۲۳

سنا ہوگا وامق پہ جو کچھ ہوانل اس عشق میں کس طرح سے موا

۲۴

جو عذرا پہ گذرا سو مشہور ہےدمن کا بھی احوال مذکور ہے

۲۵

ستم اس بلا کے ہی سہتے گئےسب اس عشق کو عشق کہتے گئے

۲۶

اس آتش سے گرمی ہے خورشید میںیہی ذرے کی جان نومید میں

۲۷

اسی سے دل ماہ ہے داغ دارکتاں کا جگر ہے سراسر فگار

۲۸

نئے اس کے چرچے حکایت سنیگہے شکر گاہے شکایت سنی

۲۹

اسی سے قیامت ہے ہر چار اوراسی فتنہ گر کا ہے عالم میں شور

۳۰

کوئی شہر ایسا نہ دیکھا کہ واںنہ ہو اس سے آشوب محشر عیاں

۳۱

کب اس عشق نے تازہ کاری نہ کیکہاں خون سے غازہ کاری نہ کی

۳۲

زمانے میں ایسا نہیں تازہ کارغرض ہے یہ اعجوبۂ روزگار

آغاز قصہ

۳۳

عجب کام پٹنے میں اس سے ہواعجب اہل عالم کو جس سے ہوا

۳۴

کہ واں اک جواں تھا پرس رام نامخوش اندام و خوش قامت و خوش خرام

۳۵

جوانی کے گلشن کا وہ آب و رنگگلستاں پہ کام اس کی خوبی سے تنگ

۳۶

جدھر نکلے رنگیں ادائی کے ساتھچلے جائیں جی خوش نمائی کے ساتھ

۳۷

کھلے بال چلتا تھا وہ سرو نازقدم بوس کو آتی عمر دراز

۳۸

جدھر کو وہ ٹک گرم رفتار ہوقیامت ادھر سے نمودار ہو

۳۹

نگہ گرم اس کی جدھر جا لڑیکہے تو کہ اودھر کو بجلی پڑی

۴۰

وہ کافر بھویں ہوویں مائل جہاںکریں سجدہ اس جا پہ اسلامیاں

۴۱

نگہ تیغ مجروح جس کے پڑےپلک سیل جوں دل میں جاکر گڑے

۴۲

سیہ چشم اس کے دو بدمست تھےنگاہوں سے شمشیر در دست تھے

۴۳

رخ اس کا کہاں اور مہ و خور کہاںتفاوت زمیں آسماں کا ہے یاں

۴۴

دو لب لعل کو جن سے شرمندگیدم حرف سرمایۂ زندگی

۴۵

دہن کی جو تنگی نظر کیجیےتو آگے سخن مختصر کیجیے

۴۶

نہ ہم تم زنخ دیکھ حیراں رہیںسبھی دست زیر زنخداں رہیں

۴۷

سراپا میں اس کے جہاں دیکھیےوہیں روے مقصود جاں دیکھیے

۴۸

خراماں نکلتا وہ جس راہ سےقیامت تھی واں نالہ و آہ سے

۴۹

فدا اس پہ جی جان ہر ایک کاکہ مقصود دل تھا بد و نیک کا

۵۰

کئی گرد و پیش اس کے وارفتگاںکئی ایدھر اودھر جگر تفتگاں

۵۱

بہت رفتگان اداے کلامبہت مبتلاے بلاے خرام

۵۲

کوئی کشتۂ شوق رفتار کاکوئی نیم جاں ذوق دیدار کا

۵۳

کوئی والۂ خندۂ برق وشکسو کے تئیں جنبش لب سے غش

۵۴

کسو کی نظر میں کمر کی لچککسو کے جگر میں پلک کی کسک

۵۵

کوئی حیرتی طرز گفتار کےکوئی آرزوکش بروبار کے

۵۶

کوئی زلف سے اس کی مجنوں رہےکسو کا تبسم سے دل خوں رہے

۵۷

کوئی دل ستم کشتۂ یک نگاہکوئی جان ہونٹھوں پہ موقوف آہ

۵۸

کسو پر فسوں گردش چشم کاکسو پر غضب غمزہ و خشم کا

۵۹

کوئی دست بر دل کوئی بے قرارکوئی بے خبر کوئی بے اختیار

۶۰

انھوں میں سے اک عاشق زار تھااس آفت کو اس سے سروکار تھا

۶۱

محبت میں تھا جذب کامل اسےمراد دل اپنی تھی حاصل اسے

۶۲

شب و روز ہم بستر کام دلہمیشہ ہم آغوش آرام دل

۶۳

دم اس کے میں یاں تک تو تاثیر تھیکہ صحبت اس آتش سے درگیر تھی

۶۴

بہم ربط چسپاں بہم اختلاطنہ کم ہوتی گرمی نہ کم اختلاط

۶۵

مرو کوئی غم سے کوئی ہو ہلاکوہ شعلہ اسی خس سے رکھتا تپاک

۶۶

کہاں حسن میں تھا وفا کا یہ پاسیہ سنیے کہ ہے گا خلاف قیاس

۶۷

بہت سے بہت اس کا مالوف تھااسی کی تسلی سے مصروف تھا

۶۸

کہ ناگہ وہ دلبر ہوا کدخدارہا اپنے عاشق سے چندے جدا

۶۹

زن و شو سے اخلاص باہم ہوااس آشفتہ سے رابطہ کم ہوا

۷۰

نگاہیں بہم دل میں کاوش کریںسخن سے وفائیں تراوش کریں

۷۱

ہوا ربط چسپاں بہم اس قدرکہ دشوار اٹھے ہم دگر سے نظر

۷۲

رہیں دونوں دست و بغل روز و شبکبھو منھ پہ منھ ہو کبھو لب پہ لب

۷۳

وفا نے جو تکلیف کی ایک روزگیا اپنے عاشق کے وہ دل فروز

۷۴

کئی دن میں جاکر جو اس سے ملاکیا اس نے حد سے زیادہ گلہ

۷۵

کہ اے نازنیں آہ کن نے کہاکہ تو حال سے میرے غافل رہا

۷۶

مگر سد رہ تھا کسو کا فریبملا کوئی تجھ سے بھی دشمن شکیب

۷۷

کوئی زلف زنجیر پا ہوگئیکہ مسدود راہ وفا ہوگئی

۷۸

طرح کس کی چتون کی دل میں کھبیجگر میں پلک شوخ کس کی چبھی

۷۹

کسو چشم نے تجھ کو جادو کیامرے جام عشرت کو لوہو کیا

۸۰

کہا ان نے تھی کدخدائی مرینہ تھی بے سبب یہ جدائی مری

۸۱

رکھ اب مجھ کو معذور ناچار ہوںمحبت کا میں نوگرفتار ہوں

۸۲

نہ فرصت مجھے صبح ہے اب نہ شامطرف اس کے ہے دل کو میل تمام

۸۳

اسے بھی مرے ساتھ اخلاص ہےدلوں کو بہم رابطہ خاص ہے

۸۴

اسے مجھ سے ہے نسبت عاشقیوہ رہتی ہے بے طاقت عاشقی

۸۵

نہیں اس کو یک لحظہ تاب فراقجدائی مری اس پہ گذرے ہے شاق

۸۶

نکلتا ہوں گھر سے جو میں ایک آنتو پاتا ہوں جاکر اسے نیم جان

۸۷

نہ دیکھے جو مجھ کو تو مر جائے وہوہیں جی سے اپنے گذر جائے وہ

۸۸

جو پہنچے مری جھونٹھ اسے بدخبرتو کر بیٹھے سچ اپنے جی کا ضرر

۸۹

غرض اس کو تاب و تحمل نہیںشکیبائی ہجر بالکل نہیں

۹۰

یہ سن کر کہا اس دل افگار نےستم کشتۂ دوری یار نے

۹۱

کہ مجھ کو نہیں تیری باتیں قبولیہ مکر زناں ہیں تو ان پر نہ بھول

۹۲

وفا کن نے ان ناقصوں میں سے کیموا شوے کس کا کہ وہ پھر نہ جی

۹۳

یہ ظاہر میں ہر چند ہوں رشک ماہولیکن ہیں باطن میں مار سیاہ

۹۴

خدا مکر سے ان کے دے ہے خبرنہیں ان سے کوئی فریبندہ تر

۹۵

جہاں میں فریب ان کا مشہور ہےزبانوں پہ مکر ان کا مذکور ہے

۹۶

پئے امتحاں عاقبت یک نفرمقرر ہوا تاکہ جا اس کے گھر

۹۷

کہے غرق دریا ہوا پرس رامہوئی زندگانی کی صبح اس کی شام

۹۸

گیا تھا نہانے کو وقت سحرسو ڈوبا وہ خورشید روشن گہر

۹۹

کیا موج دریا نے سر سے گذاراٹھا طبع نازک سے اس کے غبار

۱۰۰

وہ گیسو جو بکھرے تھے بالاے آبسو اب موج دریا کو ہے پیچ و تاب

۱۰۱

پھرے تھیں جو وے انکھڑیاں آب میںسو وے گردشیں اب ہیں گرداب میں

۱۰۲

تمنا میں تھے جس کے سب دل فگارسو دریا کو اب ہے وہ بوس و کنار

۱۰۳

نہ سمجھا وہ نافہم اسرار عشقنہ سوچا وہ ناتجربہ کار عشق

۱۰۴

کہا غرق دریا ہوا پرس رامہوا کام اس رشک مہ کا تمام

۱۰۵

کہے تو کہ موجوں کو تھا انتظارکہ دست و بغل ہوگئیں ایک بار

۱۰۶

گیا بیٹھ پانی میں ایسا شتابکہ گویا لب آب کا تھا حباب

۱۰۷

کنارے پہ دریا کے اک شور ہےبحال خراب ایک جمہور ہے

۱۰۸

گرے ہیں کئی آشنا آب میںکئی آتش غم سے ہیں تاب میں

۱۰۹

کوئی سر پہ اس غم سے ڈالے ہے خاککسی نے کیا ہے گریباں کو چاک

۱۱۰

ہمیں داغ وہ در تر دے گیابہت آب یہ ماجرا لے گیا

۱۱۱

سنا اس کی ہمسر نے جب یہ سخنہوا موج زن بحر رنج و محن

۱۱۲

نگہ اک طرف در کے مایوس کیدم سرد کھینچا گیا ڈوب جی

۱۱۳

وہی بے خودی رخصت جان تھیوہ اک دم کی گویا کہ مہمان تھی

۱۱۴

گری ہو کے بے جان وہ دردمندہوا شور نوحے کا گھر سے بلند

۱۱۵

موئی غم میں اس جملہ تن ناز کےگئی جان ہمرہ سخن ساز کے

۱۱۶

وہ آیا جو تھا دل پریشاں گیاکہ اس واقعے سے پشیماں گیا

۱۱۷

خبر لے گیا اس کنے زودترجو تھا درپئے امتحاں بے خبر

۱۱۸

کہ وہ رشک مہ امتحاں دے گئیمحبت کے ناموس کو لے گئی

۱۱۹

موا سن پرس رام کے تیں موئیمرے اک سخن میں قیامت ہوئی

۱۲۰

اگرچہ نہ کچھ ان نے منھ سے کہادیا جی ولے جی اسی میں رہا

۱۲۱

یہ سن کر وہ نافہم حیراں ہواخجالت میں سر در گریباں ہوا

۱۲۲

گیا ہوش سن کر پرس رام کادوانہ ہوا عشق کے کام کا

۱۲۳

اٹھا بے خود و بے خرد بے حواسگرا آکے اس پیکر مردہ پاس

۱۲۴

لگا کہنے اے مایۂ زندگیمجھے منھ سے تیرے ہے شرمندگی

۱۲۵

کیا جلد رخت سفر تونے بارنہ میرا کیا آہ ٹک انتظار

۱۲۶

نہ میری سنی کچھ نہ اپنی کہیمرے تیرے دونوں کے جی میں رہی

۱۲۷

زمیں پر سے آخر اٹھایا اسےلب آب جاکر جلایا اسے

۱۲۸

جب آگ اس کے پیکر پہ سب چھا گئیمحبت عجب داغ دکھلا گئی

۱۲۹

یہ سرگرم فریاد و زاری ہوالہو اس کی آنکھوں سے جاری ہوا

۱۳۰

جگر غم میں یک لخت خوں ہوگیارکا دل کہ آخر جنوں ہوگیا

۱۳۱

گئے ہوش و صبر اس کے یک بارگیطبیعت میں آئی اک آوارگی

۱۳۲

سراسیمگی سے بگولا ہواپھرے اس طرح جیسے بھولا ہوا

۱۳۳

نہ جی کو تسلی نہ دل کو قرارکف غم میں سررشتۂ اختیار

۱۳۴

کبھو یاد کر اس کو نالاں رہےکبھو ٹک جو بھولے تو حیراں رہے

۱۳۵

کبھو یاں کبھو واں بحال خرابوہی بے قراری وہی اضطراب

۱۳۶

رہے گھر تو آشوب گہ وہ گلیچمن میں جو لے جائیں تو بے کلی

۱۳۷

کبھو متصل ہونٹھ پر آہ سردکبھو دست بر دل کہ دل میں ہے درد

۱۳۸

ہوئی رفتہ رفتہ جو وحشت زیادلگا بھاگنے سب سے وہ نامراد

۱۳۹

کچھ اپنے بد و نیک کی سدھ نہیںنکل جائے تنہا کہیں کا کہیں

۱۴۰

کبھو جاکے صحرا سے لاویں اسےکبھو روتے دریا پہ پاویں اسے

۱۴۱

کبھو خاک ملتا ہے منھ پر کھڑاکہیں ہے خرابی میں بے سدھ پڑا

۱۴۲

سر شام اک روز دریا گیاہوئی رات واں سے نہ آیا گیا

۱۴۳

کنارے پہ رہتا تھا اک دام داررہا رات اس کے یہ قرب و جوار

۱۴۴

کہا اس کی عورت نے اس رات کونہیں تجھ سے جی چاہتا بات کو

۱۴۵

تجھے فکر کچھ اب ہماری نہیںتو جاتا نہیں شام کو اب کہیں

۱۴۶

ترا شب کو دریا میں پڑتا تھا دامتو چلتا تھا بارے معیشت کا کام

۱۴۷

تو جاتا نہیں شب کو جس روز سےمعیشت ہے اندوہ جاں سوز سے

۱۴۸

نہیں طاقت صبر ہم کو تنکبہت دیر ملتا ہے نان و نمک

۱۴۹

وہ بولا کہ میں بھی پریشان ہوںبہت تنگ دستی سے حیران ہوں

۱۵۰

کہوں کیا کئی روز سے شام کواٹھاتا ہوں میں اس سبب دام کو

۱۵۱

کہ یک شعلۂ تند پرپیچ و تابفلک سے اترتا ہے نزدیک آب

۱۵۲

کوئی دم تو رہتا ہے سرگرم گشتکبھی سوے دریا کبھی سوے دشت

۱۵۳

ٹھہرتا جو ہے پھر کنارے پہ واںکہے ہے پرس رام تو ہے کہاں

۱۵۴

یہ آتش مرے دل کی کیونکر بجھےعدم میں بھی میں نے نہ پایا تجھے

۱۵۵

کیا عشق نے مجھ کو آتش کا بابنہ چھڑکا مری آگ پر تونے آب

۱۵۶

گیا وہ یہ کہہ کر سوے آسماںرہے ہے مجھے رات دن خوف جاں

۱۵۷

سنا حال شعلے کا صیاد سےدھواں اک اٹھا جان ناشاد سے

۱۵۸

ہوا شعلۂ شوق دل سے بلندرہا لوٹتا آگ میں جوں سپند

۱۵۹

گئی رات جوں توں ہوئی صبح جبزیادہ ہوئی عشق کی تاب و تب

۱۶۰

محبت نے کی اشتعالک کہ وہسراسیمہ آیا چلا اس جگہ

۱۶۱

جہاں سے اٹھی تھی یہ آتش سلگپھر اس کے جگر کو لگی گھر کو لگ

۱۶۲

تبسم کناں واں یہ ان نے کہاکہ کلفت میں غم کی بہت میں رہا

۱۶۳

چلو سیرگشتی کو ہنگام شبلب آب خالی کریں دل کو سب

۱۶۴

ہوا سو ہوا یوں ہی تقدیر تھیجہاں سوز الفت کی تاثیر تھی

۱۶۵

نہ ہوتے جو دل گیر یاں متصلنہ ہوتی یہ آتش کبھو مشتعل

۱۶۶

کیاں عقل کی ان نے باتیں جو واںوہ عاشق جو تھا درپئے امتحاں

۱۶۷

لگا کہنے یہ آرزو تھی مجھےکہ اک روز ہشیار دیکھوں تجھے

۱۶۸

سو یہ دن خدا نے دکھایا مجھےسخن تیرے منھ کا سنایا مجھے

۱۶۹

ندامت سے ہوں تنگ شاہد ہیں سبگرفتار ہوں میں بحال عجب

۱۷۰

نہ خجلت سے رو ہے جو کچھ میں کہوںنہ قدرت اجل پر کہ مر بھی رہوں

۱۷۱

نہ تقدیر کا میں نے سمجھا فریبنہ جانا کہ اتنی ہے وہ ناشکیب

۱۷۲

ہوا اک سخن میں مرے یہ غضبخرابی کا تیری ہوا میں سبب

۱۷۳

کروں گا زمانے میں جب تک معاشرہوں گا اسی درد سے دل خراش

۱۷۴

مقرر کیا ہے کئی دن سے یہکہ آئندہ رہیے تری خاک رہ

۱۷۵

جو اس میں ہے خوش تو تو ہوں میں بھی ساتھرہیں گے لب آب ہی آج رات

۱۷۶

دل پر کو خالی کریں گے بہمپھریں گے ترے ساتھ خوش کوئی دم

۱۷۷

ہوئے عاقبت سوے دریا رواںنہ پیدا کسو پر یہ راز نہاں

۱۷۸

کہ اک آگ سلگی ہے واں یک کنارمحبت کمیں میں ہے سرگرم کار

۱۷۹

کسو اشتعالک کی ہے منتظرجہاں سر کو کھینچا قیامت ہے پھر

۱۸۰

ہوئے ناؤ پر شام گہ جب سوارکہا ان نے یاں ایک ہے دام دار

۱۸۱

جہاں قفل ہو راہ دریا تو وھاںکفایت ہے اس کی کلید زباں

۱۸۲

اسے ساتھ لو تو بھلی بات ہےکہ دریا میں پھرنا ہے اور رات ہے

۱۸۳

لیا آخرالامر ہمرہ اسےبٹھایا قریب اپنے کہہ کہہ اسے

۱۸۴

تنک دور چل کر کیا یہ سوالمجھے ہے ترے حرف شب کا خیال

۱۸۵

کہاں شعلۂ سرکش آتا ہے یاںکدھر پیچ و تاب آکے کھاتا ہے یاں

۱۸۶

کہاں لے ہے دریا پہ اک دم قرارکدھر مضطرب ہو کرے ہے گذار

۱۸۷

ٹھہرتا ہے کس جا وہ آتش فگنطرف کون سے ہو ہے گرم سخن

۱۸۸

یہ صیاد سے تھا ہی محو سراغجگر آتش شوق رکھتی تھی داغ

۱۸۹

کہ ہوکر فروغ اک سوے آسماںتڑپنے لگا جیسے آتش بجاں

۱۹۰

کوئی دم میں دریا پہ آیا فرودہوا نیزہ بالا سبھوں کو نمود

۱۹۱

لب آب وہ شعلۂ جاں گدازتڑپ کر بہت بازبان دراز

۱۹۲

پکارا کہاں ہے پرس رام تومحبت کا ٹک دیکھ انجام تو

۱۹۳

کہ میں جملہ تن آتش تیز ہوںدل گرم سے شعلہ انگیز ہوں

۱۹۴

بھڑکتی ہے جب آگ دل کی مرےلب آب اتروں ہوں غم میں ترے

۱۹۵

مگر سوزش دل ہو کم آب سےبجھے جی مرا اس تب و تاب سے

۱۹۶

سو یہ آب رکھتا ہے روغن کا کامکیا عشق نے آہ دشمن کا کام

۱۹۷

یہ بے تاب سن کر ہوا بے قرارسفینے سے اترا بصد اضطرار

۱۹۸

ہوا ہمدم اس آتش انگیز سےکہا اس بلاے دل آویز سے

۱۹۹

کہ میں ہوں پرس رام خانہ خرابمرا دل بھی اس آگ سے ہے کباب

۲۰۰

مرے بھی جگر میں یہی سوز ہےیہی مجھ کو جلنا شب و روز ہے

۲۰۱

محبت تری برق خرمن ہوئیتری دوستی جی کی دشمن ہوئی

۲۰۲

سخن مختصر کچھ وہ شعلہ چلاکچھ اک اپنی جاگہ سے یہ دل جلا

۲۰۳

بہم گرم جوشی سے یک جا ہوئےکہ گذری تھی مدت بھی تنہا ہوئے

۲۰۴

وہ شعلہ رہا ایک جا مشتعلکہے تو تسلی ہوئے جان و دل

۲۰۵

یکایک بھڑک کر وہ جلنے لگاپھر ایدھر ادھر پھرنے چلنے لگا

۲۰۶

کیا پاس پانی کے آکر صعودرہی روشنی سی کوئی دم نمود

۲۰۷

پھر آگے کسو پر نہ پیدا ہوانہ جانا کہ وہ شعلہ پھر کیا ہوا

۲۰۸

خبردار ہو اہل کشتی تماملگے کہنے باہم نہیں پرس رام

۲۰۹

اٹھے ڈھونڈنے ہوکے سب ناصبورکنارے پہ دریا کے نزدیک و دور

۲۱۰

نہ پایا کہیں اس کو حیراں ہوئےنہایت ہی خاطر پریشاں ہوئے

۲۱۱

وہ صیاد بولا کہ دوں میں نشاںگیا تھا سوے شعلہ یہ نوجواں

۲۱۲

یہ اور آگ دونوں ہوئے ہم سخنوہ شعلہ ہوا اس پہ آتش فگن

۲۱۳

یہ جوشش تو یاں سے تھی مدنظرپھر آگے نہیں اس کی مجھ کو خبر

۲۱۴

نہ ہو آتش غم سے پہلے ہی داغچلو اس طرف کو جو نکلے سراغ

۲۱۵

گئے مضطرب حال سارے رواںتڑپتا تھا وہ شعلہ آکر جہاں

۲۱۶

تلاش اس کی کی اور لے لے کے نامپکارے بہت پر کہاں پرس رام

۲۱۷

محبت نے ایسا کھپایا اسےکہ ہرگز کنھوں نے نہ پایا اسے

۲۱۸

یقینی ہوا یہ کہ وہ تیز آگاسی نیم کشتہ سے رکھتی تھی لاگ

۲۱۹

لپٹ اس کو شعلہ ہی وہ لے گیاعجب طور کا داغ یہ دے گیا

۲۲۰

پھرے خوار ہو ہو کے ناچار سبکسی کو تحیر کسی کو عجب

۲۲۱

کوئی منفعل ساتھ آنے سے تھاکوئی بر لب آب جانے سے تھا

۲۲۲

خصوصاً وہ عاشق ہوا پرخجلندامت ہوئی یہ جسے متصل

۲۲۳

نہ تھا اگلی خجلت ہی سے روے حرفہوا دوسرا ماجراے شگرف

۲۲۴

تفکر کے دریا میں ڈوبا ہواکنارے پہ بیٹھا تھا روتا ہوا

۲۲۵

کہ پوچھیں گے جو اس کے واماندگاںتو یہ واقعہ کیا کروں گا بیاں

۲۲۶

کہوں کیونکے یک بار وہ جل گیاکف خاک ہو خاک میں رل گیا

۲۲۷

کھنچی جرم کو بے گناہی مریہوئی شہر میں روسیاہی مری

۲۲۸

وہ شعلہ جلاتا مجھے کاش کےلیے ساتھ جاتا مجھے کاش کے

مقولۂ شاعر

۲۲۹

اگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزاولے میرؔ یہ عشق ہے بدبلا

۲۳۰

بہت جی جلائے ہیں اس عشق نےبہت گھر لٹائے ہیں اس عشق نے

۲۳۱

فسانوں سے اس کے لبالب ہے دہرجلائے ہیں اس تند آتش نے شہر

۲۳۲

محبت نہ ہو کاش مخلوق کونہ چھوڑے یہ عاشق نہ معشوق کو

۵۳۵ / ۵۸۲