کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
شعلۂ عشق
محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نورنہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
محبت مسبب محبت سببمحبت سے آتے ہیں کار عجب
محبت بن اس جا نہ آیا کوئیمحبت سے خالی نہ پایا کوئی
محبت ہی اس کارخانے میں ہےمحبت سے سب کچھ زمانے میں ہے
محبت سے کس کو ہوا ہے فراغمحبت نے کیا کیا دکھائے ہیں داغ
محبت اگر کارپرداز ہودلوں کے تئیں سوز سے ساز ہو
محبت ہے آب رخ کار دلمحبت ہے گرمی آزار دل
محبت عجب خواب خوں ریز ہےمحبت بلاے دل آویز ہے
محبت کی ہیں کارپردازیاںکہ عاشق سے ہوتی ہیں جانبازیاں
محبت کی آتش سے اخگر ہے دلمحبت نہ ہووے تو پتھر ہے دل
محبت کو ہے اس گلستاں میں راہکلی کے دل تنگ میں بھی ہے چاہ
محبت ہی سے دل کو رو بیٹھیےمحبت میں جی مفت کھو بیٹھیے
محبت لگاتی ہے پانی میں آگمحبت سے ہے تیغ و گردن میں لاگ
محبت سے ہے انتظام جہاںمحبت سے گردش میں ہے آسماں
محبت سے روتے گئے یار خوںمحبت سے ہو ہو گیا ہے جنوں
محبت سے آتا ہے جو کچھ کہومحبت سے ہو جو وہ ہرگز نہ ہو
محبت سے پروانہ آتش بجاںمحبت سے بلبل ہے گرم فغاں
اسی آگ سے شمع کو ہے گدازاسی کے لیے گل ہے سرگرم ناز
محبت ہی ہے تحت سے تا بہ فوقزمیں آسماں سب ہیں لبریز شوق
محبت سے یاروں کے ہیں رنگ زرددلوں میں محبت سے اٹھتے ہیں درد
گیا قیس ناشاد اس عشق میںکھپی جان فرہاد اس عشق میں
ہوئی اس سے شیریں کی حالت تباہکیا اس سے لیلیٰ نے خیمہ سیاہ
سنا ہوگا وامق پہ جو کچھ ہوانل اس عشق میں کس طرح سے موا
جو عذرا پہ گذرا سو مشہور ہےدمن کا بھی احوال مذکور ہے
ستم اس بلا کے ہی سہتے گئےسب اس عشق کو عشق کہتے گئے
اس آتش سے گرمی ہے خورشید میںیہی ذرے کی جان نومید میں
اسی سے دل ماہ ہے داغ دارکتاں کا جگر ہے سراسر فگار
نئے اس کے چرچے حکایت سنیگہے شکر گاہے شکایت سنی
اسی سے قیامت ہے ہر چار اوراسی فتنہ گر کا ہے عالم میں شور
کوئی شہر ایسا نہ دیکھا کہ واںنہ ہو اس سے آشوب محشر عیاں
کب اس عشق نے تازہ کاری نہ کیکہاں خون سے غازہ کاری نہ کی
زمانے میں ایسا نہیں تازہ کارغرض ہے یہ اعجوبۂ روزگار
آغاز قصہ
عجب کام پٹنے میں اس سے ہواعجب اہل عالم کو جس سے ہوا
کہ واں اک جواں تھا پرس رام نامخوش اندام و خوش قامت و خوش خرام
جوانی کے گلشن کا وہ آب و رنگگلستاں پہ کام اس کی خوبی سے تنگ
جدھر نکلے رنگیں ادائی کے ساتھچلے جائیں جی خوش نمائی کے ساتھ
کھلے بال چلتا تھا وہ سرو نازقدم بوس کو آتی عمر دراز
جدھر کو وہ ٹک گرم رفتار ہوقیامت ادھر سے نمودار ہو
نگہ گرم اس کی جدھر جا لڑیکہے تو کہ اودھر کو بجلی پڑی
وہ کافر بھویں ہوویں مائل جہاںکریں سجدہ اس جا پہ اسلامیاں
نگہ تیغ مجروح جس کے پڑےپلک سیل جوں دل میں جاکر گڑے
سیہ چشم اس کے دو بدمست تھےنگاہوں سے شمشیر در دست تھے
رخ اس کا کہاں اور مہ و خور کہاںتفاوت زمیں آسماں کا ہے یاں
دو لب لعل کو جن سے شرمندگیدم حرف سرمایۂ زندگی
دہن کی جو تنگی نظر کیجیےتو آگے سخن مختصر کیجیے
نہ ہم تم زنخ دیکھ حیراں رہیںسبھی دست زیر زنخداں رہیں
سراپا میں اس کے جہاں دیکھیےوہیں روے مقصود جاں دیکھیے
خراماں نکلتا وہ جس راہ سےقیامت تھی واں نالہ و آہ سے
فدا اس پہ جی جان ہر ایک کاکہ مقصود دل تھا بد و نیک کا
کئی گرد و پیش اس کے وارفتگاںکئی ایدھر اودھر جگر تفتگاں
بہت رفتگان اداے کلامبہت مبتلاے بلاے خرام
کوئی کشتۂ شوق رفتار کاکوئی نیم جاں ذوق دیدار کا
کوئی والۂ خندۂ برق وشکسو کے تئیں جنبش لب سے غش
کسو کی نظر میں کمر کی لچککسو کے جگر میں پلک کی کسک
کوئی حیرتی طرز گفتار کےکوئی آرزوکش بروبار کے
کوئی زلف سے اس کی مجنوں رہےکسو کا تبسم سے دل خوں رہے
کوئی دل ستم کشتۂ یک نگاہکوئی جان ہونٹھوں پہ موقوف آہ
کسو پر فسوں گردش چشم کاکسو پر غضب غمزہ و خشم کا
کوئی دست بر دل کوئی بے قرارکوئی بے خبر کوئی بے اختیار
انھوں میں سے اک عاشق زار تھااس آفت کو اس سے سروکار تھا
محبت میں تھا جذب کامل اسےمراد دل اپنی تھی حاصل اسے
شب و روز ہم بستر کام دلہمیشہ ہم آغوش آرام دل
دم اس کے میں یاں تک تو تاثیر تھیکہ صحبت اس آتش سے درگیر تھی
بہم ربط چسپاں بہم اختلاطنہ کم ہوتی گرمی نہ کم اختلاط
مرو کوئی غم سے کوئی ہو ہلاکوہ شعلہ اسی خس سے رکھتا تپاک
کہاں حسن میں تھا وفا کا یہ پاسیہ سنیے کہ ہے گا خلاف قیاس
بہت سے بہت اس کا مالوف تھااسی کی تسلی سے مصروف تھا
کہ ناگہ وہ دلبر ہوا کدخدارہا اپنے عاشق سے چندے جدا
زن و شو سے اخلاص باہم ہوااس آشفتہ سے رابطہ کم ہوا
نگاہیں بہم دل میں کاوش کریںسخن سے وفائیں تراوش کریں
ہوا ربط چسپاں بہم اس قدرکہ دشوار اٹھے ہم دگر سے نظر
رہیں دونوں دست و بغل روز و شبکبھو منھ پہ منھ ہو کبھو لب پہ لب
وفا نے جو تکلیف کی ایک روزگیا اپنے عاشق کے وہ دل فروز
کئی دن میں جاکر جو اس سے ملاکیا اس نے حد سے زیادہ گلہ
کہ اے نازنیں آہ کن نے کہاکہ تو حال سے میرے غافل رہا
مگر سد رہ تھا کسو کا فریبملا کوئی تجھ سے بھی دشمن شکیب
کوئی زلف زنجیر پا ہوگئیکہ مسدود راہ وفا ہوگئی
طرح کس کی چتون کی دل میں کھبیجگر میں پلک شوخ کس کی چبھی
کسو چشم نے تجھ کو جادو کیامرے جام عشرت کو لوہو کیا
کہا ان نے تھی کدخدائی مرینہ تھی بے سبب یہ جدائی مری
رکھ اب مجھ کو معذور ناچار ہوںمحبت کا میں نوگرفتار ہوں
نہ فرصت مجھے صبح ہے اب نہ شامطرف اس کے ہے دل کو میل تمام
اسے بھی مرے ساتھ اخلاص ہےدلوں کو بہم رابطہ خاص ہے
اسے مجھ سے ہے نسبت عاشقیوہ رہتی ہے بے طاقت عاشقی
نہیں اس کو یک لحظہ تاب فراقجدائی مری اس پہ گذرے ہے شاق
نکلتا ہوں گھر سے جو میں ایک آنتو پاتا ہوں جاکر اسے نیم جان
نہ دیکھے جو مجھ کو تو مر جائے وہوہیں جی سے اپنے گذر جائے وہ
جو پہنچے مری جھونٹھ اسے بدخبرتو کر بیٹھے سچ اپنے جی کا ضرر
غرض اس کو تاب و تحمل نہیںشکیبائی ہجر بالکل نہیں
یہ سن کر کہا اس دل افگار نےستم کشتۂ دوری یار نے
کہ مجھ کو نہیں تیری باتیں قبولیہ مکر زناں ہیں تو ان پر نہ بھول
وفا کن نے ان ناقصوں میں سے کیموا شوے کس کا کہ وہ پھر نہ جی
یہ ظاہر میں ہر چند ہوں رشک ماہولیکن ہیں باطن میں مار سیاہ
خدا مکر سے ان کے دے ہے خبرنہیں ان سے کوئی فریبندہ تر
جہاں میں فریب ان کا مشہور ہےزبانوں پہ مکر ان کا مذکور ہے
پئے امتحاں عاقبت یک نفرمقرر ہوا تاکہ جا اس کے گھر
کہے غرق دریا ہوا پرس رامہوئی زندگانی کی صبح اس کی شام
گیا تھا نہانے کو وقت سحرسو ڈوبا وہ خورشید روشن گہر
کیا موج دریا نے سر سے گذاراٹھا طبع نازک سے اس کے غبار
وہ گیسو جو بکھرے تھے بالاے آبسو اب موج دریا کو ہے پیچ و تاب
پھرے تھیں جو وے انکھڑیاں آب میںسو وے گردشیں اب ہیں گرداب میں
تمنا میں تھے جس کے سب دل فگارسو دریا کو اب ہے وہ بوس و کنار
نہ سمجھا وہ نافہم اسرار عشقنہ سوچا وہ ناتجربہ کار عشق
کہا غرق دریا ہوا پرس رامہوا کام اس رشک مہ کا تمام
کہے تو کہ موجوں کو تھا انتظارکہ دست و بغل ہوگئیں ایک بار
گیا بیٹھ پانی میں ایسا شتابکہ گویا لب آب کا تھا حباب
کنارے پہ دریا کے اک شور ہےبحال خراب ایک جمہور ہے
گرے ہیں کئی آشنا آب میںکئی آتش غم سے ہیں تاب میں
کوئی سر پہ اس غم سے ڈالے ہے خاککسی نے کیا ہے گریباں کو چاک
ہمیں داغ وہ در تر دے گیابہت آب یہ ماجرا لے گیا
سنا اس کی ہمسر نے جب یہ سخنہوا موج زن بحر رنج و محن
نگہ اک طرف در کے مایوس کیدم سرد کھینچا گیا ڈوب جی
وہی بے خودی رخصت جان تھیوہ اک دم کی گویا کہ مہمان تھی
گری ہو کے بے جان وہ دردمندہوا شور نوحے کا گھر سے بلند
موئی غم میں اس جملہ تن ناز کےگئی جان ہمرہ سخن ساز کے
وہ آیا جو تھا دل پریشاں گیاکہ اس واقعے سے پشیماں گیا
خبر لے گیا اس کنے زودترجو تھا درپئے امتحاں بے خبر
کہ وہ رشک مہ امتحاں دے گئیمحبت کے ناموس کو لے گئی
موا سن پرس رام کے تیں موئیمرے اک سخن میں قیامت ہوئی
اگرچہ نہ کچھ ان نے منھ سے کہادیا جی ولے جی اسی میں رہا
یہ سن کر وہ نافہم حیراں ہواخجالت میں سر در گریباں ہوا
گیا ہوش سن کر پرس رام کادوانہ ہوا عشق کے کام کا
اٹھا بے خود و بے خرد بے حواسگرا آکے اس پیکر مردہ پاس
لگا کہنے اے مایۂ زندگیمجھے منھ سے تیرے ہے شرمندگی
کیا جلد رخت سفر تونے بارنہ میرا کیا آہ ٹک انتظار
نہ میری سنی کچھ نہ اپنی کہیمرے تیرے دونوں کے جی میں رہی
زمیں پر سے آخر اٹھایا اسےلب آب جاکر جلایا اسے
جب آگ اس کے پیکر پہ سب چھا گئیمحبت عجب داغ دکھلا گئی
یہ سرگرم فریاد و زاری ہوالہو اس کی آنکھوں سے جاری ہوا
جگر غم میں یک لخت خوں ہوگیارکا دل کہ آخر جنوں ہوگیا
گئے ہوش و صبر اس کے یک بارگیطبیعت میں آئی اک آوارگی
سراسیمگی سے بگولا ہواپھرے اس طرح جیسے بھولا ہوا
نہ جی کو تسلی نہ دل کو قرارکف غم میں سررشتۂ اختیار
کبھو یاد کر اس کو نالاں رہےکبھو ٹک جو بھولے تو حیراں رہے
کبھو یاں کبھو واں بحال خرابوہی بے قراری وہی اضطراب
رہے گھر تو آشوب گہ وہ گلیچمن میں جو لے جائیں تو بے کلی
کبھو متصل ہونٹھ پر آہ سردکبھو دست بر دل کہ دل میں ہے درد
ہوئی رفتہ رفتہ جو وحشت زیادلگا بھاگنے سب سے وہ نامراد
کچھ اپنے بد و نیک کی سدھ نہیںنکل جائے تنہا کہیں کا کہیں
کبھو جاکے صحرا سے لاویں اسےکبھو روتے دریا پہ پاویں اسے
کبھو خاک ملتا ہے منھ پر کھڑاکہیں ہے خرابی میں بے سدھ پڑا
سر شام اک روز دریا گیاہوئی رات واں سے نہ آیا گیا
کنارے پہ رہتا تھا اک دام داررہا رات اس کے یہ قرب و جوار
کہا اس کی عورت نے اس رات کونہیں تجھ سے جی چاہتا بات کو
تجھے فکر کچھ اب ہماری نہیںتو جاتا نہیں شام کو اب کہیں
ترا شب کو دریا میں پڑتا تھا دامتو چلتا تھا بارے معیشت کا کام
تو جاتا نہیں شب کو جس روز سےمعیشت ہے اندوہ جاں سوز سے
نہیں طاقت صبر ہم کو تنکبہت دیر ملتا ہے نان و نمک
وہ بولا کہ میں بھی پریشان ہوںبہت تنگ دستی سے حیران ہوں
کہوں کیا کئی روز سے شام کواٹھاتا ہوں میں اس سبب دام کو
کہ یک شعلۂ تند پرپیچ و تابفلک سے اترتا ہے نزدیک آب
کوئی دم تو رہتا ہے سرگرم گشتکبھی سوے دریا کبھی سوے دشت
ٹھہرتا جو ہے پھر کنارے پہ واںکہے ہے پرس رام تو ہے کہاں
یہ آتش مرے دل کی کیونکر بجھےعدم میں بھی میں نے نہ پایا تجھے
کیا عشق نے مجھ کو آتش کا بابنہ چھڑکا مری آگ پر تونے آب
گیا وہ یہ کہہ کر سوے آسماںرہے ہے مجھے رات دن خوف جاں
سنا حال شعلے کا صیاد سےدھواں اک اٹھا جان ناشاد سے
ہوا شعلۂ شوق دل سے بلندرہا لوٹتا آگ میں جوں سپند
گئی رات جوں توں ہوئی صبح جبزیادہ ہوئی عشق کی تاب و تب
محبت نے کی اشتعالک کہ وہسراسیمہ آیا چلا اس جگہ
جہاں سے اٹھی تھی یہ آتش سلگپھر اس کے جگر کو لگی گھر کو لگ
تبسم کناں واں یہ ان نے کہاکہ کلفت میں غم کی بہت میں رہا
چلو سیرگشتی کو ہنگام شبلب آب خالی کریں دل کو سب
ہوا سو ہوا یوں ہی تقدیر تھیجہاں سوز الفت کی تاثیر تھی
نہ ہوتے جو دل گیر یاں متصلنہ ہوتی یہ آتش کبھو مشتعل
کیاں عقل کی ان نے باتیں جو واںوہ عاشق جو تھا درپئے امتحاں
لگا کہنے یہ آرزو تھی مجھےکہ اک روز ہشیار دیکھوں تجھے
سو یہ دن خدا نے دکھایا مجھےسخن تیرے منھ کا سنایا مجھے
ندامت سے ہوں تنگ شاہد ہیں سبگرفتار ہوں میں بحال عجب
نہ خجلت سے رو ہے جو کچھ میں کہوںنہ قدرت اجل پر کہ مر بھی رہوں
نہ تقدیر کا میں نے سمجھا فریبنہ جانا کہ اتنی ہے وہ ناشکیب
ہوا اک سخن میں مرے یہ غضبخرابی کا تیری ہوا میں سبب
کروں گا زمانے میں جب تک معاشرہوں گا اسی درد سے دل خراش
مقرر کیا ہے کئی دن سے یہکہ آئندہ رہیے تری خاک رہ
جو اس میں ہے خوش تو تو ہوں میں بھی ساتھرہیں گے لب آب ہی آج رات
دل پر کو خالی کریں گے بہمپھریں گے ترے ساتھ خوش کوئی دم
ہوئے عاقبت سوے دریا رواںنہ پیدا کسو پر یہ راز نہاں
کہ اک آگ سلگی ہے واں یک کنارمحبت کمیں میں ہے سرگرم کار
کسو اشتعالک کی ہے منتظرجہاں سر کو کھینچا قیامت ہے پھر
ہوئے ناؤ پر شام گہ جب سوارکہا ان نے یاں ایک ہے دام دار
جہاں قفل ہو راہ دریا تو وھاںکفایت ہے اس کی کلید زباں
اسے ساتھ لو تو بھلی بات ہےکہ دریا میں پھرنا ہے اور رات ہے
لیا آخرالامر ہمرہ اسےبٹھایا قریب اپنے کہہ کہہ اسے
تنک دور چل کر کیا یہ سوالمجھے ہے ترے حرف شب کا خیال
کہاں شعلۂ سرکش آتا ہے یاںکدھر پیچ و تاب آکے کھاتا ہے یاں
کہاں لے ہے دریا پہ اک دم قرارکدھر مضطرب ہو کرے ہے گذار
ٹھہرتا ہے کس جا وہ آتش فگنطرف کون سے ہو ہے گرم سخن
یہ صیاد سے تھا ہی محو سراغجگر آتش شوق رکھتی تھی داغ
کہ ہوکر فروغ اک سوے آسماںتڑپنے لگا جیسے آتش بجاں
کوئی دم میں دریا پہ آیا فرودہوا نیزہ بالا سبھوں کو نمود
لب آب وہ شعلۂ جاں گدازتڑپ کر بہت بازبان دراز
پکارا کہاں ہے پرس رام تومحبت کا ٹک دیکھ انجام تو
کہ میں جملہ تن آتش تیز ہوںدل گرم سے شعلہ انگیز ہوں
بھڑکتی ہے جب آگ دل کی مرےلب آب اتروں ہوں غم میں ترے
مگر سوزش دل ہو کم آب سےبجھے جی مرا اس تب و تاب سے
سو یہ آب رکھتا ہے روغن کا کامکیا عشق نے آہ دشمن کا کام
یہ بے تاب سن کر ہوا بے قرارسفینے سے اترا بصد اضطرار
ہوا ہمدم اس آتش انگیز سےکہا اس بلاے دل آویز سے
کہ میں ہوں پرس رام خانہ خرابمرا دل بھی اس آگ سے ہے کباب
مرے بھی جگر میں یہی سوز ہےیہی مجھ کو جلنا شب و روز ہے
محبت تری برق خرمن ہوئیتری دوستی جی کی دشمن ہوئی
سخن مختصر کچھ وہ شعلہ چلاکچھ اک اپنی جاگہ سے یہ دل جلا
بہم گرم جوشی سے یک جا ہوئےکہ گذری تھی مدت بھی تنہا ہوئے
وہ شعلہ رہا ایک جا مشتعلکہے تو تسلی ہوئے جان و دل
یکایک بھڑک کر وہ جلنے لگاپھر ایدھر ادھر پھرنے چلنے لگا
کیا پاس پانی کے آکر صعودرہی روشنی سی کوئی دم نمود
پھر آگے کسو پر نہ پیدا ہوانہ جانا کہ وہ شعلہ پھر کیا ہوا
خبردار ہو اہل کشتی تماملگے کہنے باہم نہیں پرس رام
اٹھے ڈھونڈنے ہوکے سب ناصبورکنارے پہ دریا کے نزدیک و دور
نہ پایا کہیں اس کو حیراں ہوئےنہایت ہی خاطر پریشاں ہوئے
وہ صیاد بولا کہ دوں میں نشاںگیا تھا سوے شعلہ یہ نوجواں
یہ اور آگ دونوں ہوئے ہم سخنوہ شعلہ ہوا اس پہ آتش فگن
یہ جوشش تو یاں سے تھی مدنظرپھر آگے نہیں اس کی مجھ کو خبر
نہ ہو آتش غم سے پہلے ہی داغچلو اس طرف کو جو نکلے سراغ
گئے مضطرب حال سارے رواںتڑپتا تھا وہ شعلہ آکر جہاں
تلاش اس کی کی اور لے لے کے نامپکارے بہت پر کہاں پرس رام
محبت نے ایسا کھپایا اسےکہ ہرگز کنھوں نے نہ پایا اسے
یقینی ہوا یہ کہ وہ تیز آگاسی نیم کشتہ سے رکھتی تھی لاگ
لپٹ اس کو شعلہ ہی وہ لے گیاعجب طور کا داغ یہ دے گیا
پھرے خوار ہو ہو کے ناچار سبکسی کو تحیر کسی کو عجب
کوئی منفعل ساتھ آنے سے تھاکوئی بر لب آب جانے سے تھا
خصوصاً وہ عاشق ہوا پرخجلندامت ہوئی یہ جسے متصل
نہ تھا اگلی خجلت ہی سے روے حرفہوا دوسرا ماجراے شگرف
تفکر کے دریا میں ڈوبا ہواکنارے پہ بیٹھا تھا روتا ہوا
کہ پوچھیں گے جو اس کے واماندگاںتو یہ واقعہ کیا کروں گا بیاں
کہوں کیونکے یک بار وہ جل گیاکف خاک ہو خاک میں رل گیا
کھنچی جرم کو بے گناہی مریہوئی شہر میں روسیاہی مری
وہ شعلہ جلاتا مجھے کاش کےلیے ساتھ جاتا مجھے کاش کے
مقولۂ شاعر
اگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزاولے میرؔ یہ عشق ہے بدبلا
بہت جی جلائے ہیں اس عشق نےبہت گھر لٹائے ہیں اس عشق نے
فسانوں سے اس کے لبالب ہے دہرجلائے ہیں اس تند آتش نے شہر
محبت نہ ہو کاش مخلوق کونہ چھوڑے یہ عاشق نہ معشوق کو
۵۳۵ / ۵۸۲