طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے

اور مہ پارہ بھی اس شہر میں مشہور ہے اباس کی محبوبی و خوبی ہی کا مذکور ہے ابدیکھنا کچھ ہو اسی کا مجھے منظور ہے ابصرف اس پر کروں گا اپنا جو مقدور ہے اباس کنے ضد سے تری شام و سحر جاؤں گاگھر سے جس دم اٹھوں گا اس کے ہی گھر جاؤں گا

About this couplet

This is couplet 12 of 27 in “⁨طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۲۷