طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے

اب بھی گر سمجھے تو مجھ کو ہے وہی تجھ سے پیارچھیڑ کا ننگ نہیں تیری نہ گالی کا ہے عاروہی مخلص ہوں قدیمی وہی میں تیرا یاربندگی کیش وفاشیوہ و اخلاص شعارچوٹ مجھ کو بھی تو غیروں کی ملاقات کی ہےچھوڑے یہ تو تو پھر آزردگی کس بات کی ہے

About this couplet

This is couplet 24 of 27 in “⁨طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۲۴ / ۲۷