کلامِ میررباعیات
اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے
۱
اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتےکاہے کو غم الم سے روتے رہتےسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبالبہتر تھا یہی کہ وہیں سوتے رہتے
۳۴۴ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتےکاہے کو غم الم سے روتے رہتےسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبالبہتر تھا یہی کہ وہیں سوتے رہتے
۳۴۴ / ۵۸۲