کلامِ میررباعیات
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
۱
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریشٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویشہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجےپھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش
۳۵۵ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریشٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویشہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجےپھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش
۳۵۵ / ۵۸۲