کلامِ میررباعیات
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
۱
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتےہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتےاے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگربھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے
۳۷۹ / ۵۸۲
کلامِ میررباعیات
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتےہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتےاے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگربھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے
۳۷۹ / ۵۸۲