کلامِ میررباعیات

پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے

۱

پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھےمسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھےکیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئیخار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے

۴۱۹ / ۵۸۲