کلامِ مومنردیف الف

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

۱

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانااے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

۲

پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانااس رخ کی صفائی پر اس دل کا بہل جانا

۳

سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھاپھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا

۴

اتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤگھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا

۵

اے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایاتو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا

۶

کیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تونظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا

۷

ہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنامشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا

۸

حوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانیلے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا

۹

عشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانےلو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا

۱۰

کیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہےپانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا

۱۱

مطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میںاس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا

۱۲

دم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہےاتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا

۱ / ۵۶